شیے۔ ڈال ٹر رع سویری

پیش خدمت ہے کتب خانہ گروپ کی طرف سے ایک اور کتاب ۔ پیش نظر کتاب فیس بک گروپ کتب خانہ بھی اپلوڈ کر دی گئی ہے ۔إ

.8۵9://۷۷۷۷۸۷۰۸۰۲۹۰۰۵۱۰۱۱۸. ۵۲۸/0۲۵9

/1144796425720955/71601-:9116

میر ظہیر عباس روستمانی لا 0307-2128065

۶ ا دن

نل پیانشکک یں مل

پا جم لو قکن مس ںکنوی

0 5111118ف1۸ ۶۸٢6:‏ 717076 ([۲۱۷۰۱) ہوا صمم30 وگلعط5 ×ط ع1100 0عہ6 1۷8ء20 1۵۵0عن ,1/101

( 190021004۷ سعوف0ظ ۸7۳0۰1 [7۵ہ 1017011 عي ۷ہ

.٥ہماقعا‎ 1: 94190016931, 7

.1ئ80 333مممحوطعطلہل :اند--ظا

9 :24116 ا۰٤ہ ۷:١۱۳‏ 978-93-88736-67-1 1557 ۔-/0 .۶۰ ۳۲٢٢‏ نا تاب : نام رڈ :خیر۱۹۹۰( رل) ممتق ڈاکڑشفقوپری سالاغاعت‌ال : ۲۰۱۹ء تعراد : ٭٭باا۔س) بت ۳٣۰٣۰‏ رو صریرق : بادیداچال(ءپر) یح : ردان پرنیں ٠‏ دٹگی-۷ ملنے کے ہہ شب نو نکتابگھر پوس ٹس 13ءالآباد211003(یو ی) میزان پبلشرز مد مالو ریگ رٹیم ٭٭ مزا بگھ ہولج آزادروڈبص یگ مشیر ج گشن کس :رنز نی روڈم ریگ مشیر لزطا ۵وجائزاظ۷ط

۲١۱8۵۶۹۶٤۵١‏ ۶۱۷۵۱۱۹۲۱۱۱ ۸۲۱011۸ م2۵ (11151۸- 091 ,4۳2۲ ,۶۵۲۵1۸ ھا 0> ,8۲۲991 3191,۷۵۸1 0091-11-40 : ۴۵۷ 45678286 ,23214465 ,23216162 : ۶ . ا(۲ و2 ھ1ا ہ(زام٥,٦×ء‏ ۔تداہ ”دحا مد6١١۱۳‏ ادگ 00169.71 جا ۱۷۸۷۷.۵17 :19 جادہ:

انگ

اپنے وال جن لام خی شا کے نام ج نکا کیم اکم برسال ۱۹۹۰ کو بنرواڑ ویش دمگرچووہمحوموں کے سا ھیا یٹ لکیاگیا۔

ای واللد ھت امینہمم سے نام ج نکی اتک مین جوا ی میں اک ےھر رین

اپے براددا جج ارشد زین شا داد بل امد شاپ کے ناءرجنہوں نے اپے واللدکی جم سو تد مت ٹل عام کے دوسرے دن راک کے ڈیر ےنا لکرقبرتا نک کک ندحارےکر بہئچالی-

ا پقی مر یحانہ اخ کے نام جنہھیں اپ والدکا آخری دیدا رگ نصشیبےہوا۔

زخدودلان ہندوانڑہ کے نام جنہوں نے معتقول کے نیما نیا نکوان کے بائی بن ڈورو(اخت اگ ) دای جانے سے کہکرر کا کہ چہاں مق لکاجسد اک یآ سوددہ ہے وہہیں ان کا خاندا نی ر ےگا-

رش پری)

4 انگ اس ناولل کےس بکردار اود وا نعات فرشی ہیں ۔ بھی مکی ھم شض اثفاق ہوکتا ہے ٹس کے مصف پروی ذمدداری عا یں ہوگی_ نیز انس ناو لکاکوئ یھی ححتمصتقف سے با تقاعد وج یر اجازت کے اخ مکرتُل استعال ملا آڈیدہ ویڈیو وغیر: کے لئ اتا لننی سکیا جاسکتا۔غلاف ور زی کرنے دانے کےخلاف انی چارہ جوئی کات مصقف کے پا ںحفوطط ہے_

(ہسیں) میف ی0ی ٥‏ مرلں اہر ( جو غخزلیات) بت ہّمون کک (گیارنڑیں) 9 رشت ِ رورگین (ھو غفزلیات) ٭ مل ِتاذ عق (عرختن) ہوتقی :شا ع ریاورضمایات رعیرکن) رمق جع ٥۵‏ چات رعیرخن) کلام فی کاعرنی مال رخ ہ۹ نم طاؤس :نی اورمیے رحیرتن) (صارل)

٥‏ نے (طرسرع)

انگ 5

فا اع ۰" ”اردوناواو نک جا رجش ایک .ےل“ رو فیس را وا لام ای

شاعریتوز ماٹی اورز بی جوالوں سے ادتقا کےراۓ بیال یق رشن اپ ےگردوٹیشی سے بے خیاز ہوکرد چنا ہے ۔ بی خی رکی سای ہسیای اورتبذجی صورتے ھا لک خیزیممولی بن یکشیئسیم جندی رجف ازدذناواون نے تت ارد شر ےکک اضیام دہیے کا شبوت دیاگ رگزشت تن دہائیوں میں کشم کی رز یکن نے جو بد دنیھا او شس طرح جرذتش دہ دہشت ناکی اورخیرانانی صورت حا کا تر ہکیا ان سے اردوکش نی بی االتقی اور لا پردائی بح تبرت یں باح- یرت بھی م نکد ہگئی ے-

شف سو پادی ایک متاز اورمفردشا عھر کے ور پر ھا" روف یں کہ نکی دوسری مضتوع صلائیتیں نظروں سے اویل رہقی ہیں ۔ دہ یک ا در کے نٹرذگازاور اردولش نی ای ردایت اورمخمرات کے رع زخا س بھی ہیں میں کا رین مو وہ گزشیر رسوں میں ایک تقایل توچ نول نیلیں““ کوک دے چچئے ہیں یش سو پور ی ای افارشع: نر طیازرق بر نکی کےمعزاق اپ نے تلیقی مات کے کشا فک ماش رتق ہے۔انہوں نے فا ئرنگ ری ہکشمی ر۰ ۱۹۹“ کے نام سےجا نز وت من ناو لے کرانیک پقتکار ناول ڈگارہون ےکا شجوت فرا پھ مت وکیا عی ہے اپ ےجحیریآواز

6 ار پر لبیک کین ےک یکڑشش یبھ کی ہے تی رکی و سآ وا تلق اضسمافی سرردکار مایق ذمددارگی اددا لاق فرییض ےکٌھی ہے ۔ شی سیا سی اور ساب صورتب‌عال جس طرع بوصنی رکے دوکگو ںکی غیرفطر یی ما خیاز رج جک گت ری ے کی حرکیا تکولگشی سے بہت رطور با اورحبِ ادپ اور امالیپ اظہار میں ٹیش ہیی سکیا جاسکتا تھا شف سو پودبی نے انسای ضحیمر کے ساط حسغیب پموئی اردوکشن پر ھا کھ ا رت کو چان کیکیشن کی ہے جڑسش کشر ریس پرے بت میرم اردد کے بییرارمخراد یچوں پپرعا مرتھا-

شش نے نصصرف اس تما مصورت حا لکا مشابد کیا ہے بلہان کے مز وذ دا قارب نے برادوراست لا لکرب اوراذ یج تکوپھکتا اور ربکا ہے چھ ما نرگان کے لے ایک ڈراو نے خحوا بک ط رب جنوز ان کے اعصاب پھ مسلط ہے۔ظاہر کرش سو پوری سے زیادہ مو انداز یل ا موضو کا تن اد اکر ن کا شمو تی ادز کے لے می کرت آسمان نھا۔

مصنف نے اپنے شا عرا یٹیل اور با یک قو تکابھ رپورطرییقے سے اش ناو میں رو یل لان ےک یکوشش کی ہے۔ اس جیا یکا داعدشعلم راو جیاشیکا جح بجی ہے اور پوری اصورستحال ےی اورمعروشی فا صلہقائم رکے کامیا بگھیا۔اس ناول کے رکز یکردار منظور ام نشاہہخواچر اط قددس و رالة بن اہ ادرقادرکا گی کے سساتھ ت وک نات کول او رکرتا رت کےک دارکی یش ایک طرف :ول نار کےلبرل نت نظ رکی کا یکھ یکرت ہے او ری و کے اکرے رزگ رکا ایں پھ عائنجیش ہونے دب ۔عزید

الج 7 بیس کہ ان د جیا نکی شکشگی او بت مزا تے اناو للوعردر قائلٴ مطالصیجی ناد یا ے۔ : رام الھرا فکوامید ینمی شقی بھی ےکی ناول اردہ ناولو ںکی تار یٹس ایک سن گی لبھی خابت ہوگااور ان نقرد بیا کی حیقیت سے نا قایگفر امن مین جات ۓگا- پروفیسرا وا للا ماگ کی کا

۵۔فرورگ ۲۴۰۱۹

ار 9

068 94 1144736425720955/4ر میو ظبیر عباس ووسنمائی ا 2۱20064 مو

٦۶‏ ۲۹ ۶۹ مرمدح

رع نی ا ب()

انا بر ار ال ابر رگ کے اسیک مضافاتی عطا کی مس دکا لا و ڈجیگ رک جن لگا۔ دع رکی را ت کا زدد چاند دحند نٹ ے1سان پر کی رشن کی چادر شش شش رہ تھا_ اچک فو گی عگروں سے دددعیا رشن کےتندہ یز اد رکیلے دہمارے بے گے۔نیانے مکانو کی نم خوابیدہ ذ یوار یں چنرعیا نونف رغن یز کرت ہوئی رچشنی کے پچنرےآوازمیس پڑ گے _ ت رات !رات حظراے۱۱]ٴ“ سرپ ریس ی مت می ںآ گ گاد یکئی ہے ۔ اڈ کی بارگاە مم سرن جود ہوک رخاب زرگاں کے جانع و مال اورعزت وآ بر وک حا ظ تکا ے

(۱): ہندوتائی م وت یکی محروف صتف ‏ ت۱ت کا ایک ول

10 اگج

دعااگیں_

”'ای شر“ ا کے بعددیر کک شرمی رق کے تندہ جیز اد رکیل دحاروں نے گھرجنے ہو مرو ںکا تھا ق بکیا: ”الیل برا اکیرال ایز“ بالل سے مخضے وائے اے آماں نہیں ہم خ+اى. ےقا سے ال ابطاں ہوا ”ای اک را ات !رات !حر ہے“ ”گرا مسلمانو اخداکیشان باقی ے“ ےم دواہدجاگ ذرااب وقت شبادت سآیا'“ انا بر ارز راب اق ذیہت راز کے ور رورری شی :زکں او آوازوں کے پھنور یں بوں جک را یک ایک دکان سیتھنرے سے دب کفکربیٹھ اید ددر ‏ ےآل ر ہا تھۃ اتی ےآ”فقال یھ گیا ارز -ان ابناسی چک کر کے لاداابگل ہی ہے۔ بھ یا کشعلو کی تیززیا ٰی ںآ سا نکو اٹ رای یں گرب کالوئی سے خوف زووکی نبھٹرکیوں کےئیٹوں سے اپ اگمم سمانسو ںکی دہند ہٹاتے ہو ےگہرے بھورے رک ککی رشن میں دہشت کھائی ہوئیگیوں میں مضطرب ہوک اتک ر ہے تھے .تا ٹا ا قد گج راک

انگ 11 یں سے متن کر ہو لے اور بزرگوں سےگھتوں کے چان ےکی داز سے صدے سےلو ںکی دک نج زہورجیچھی _ : آگ ای مس می ںگ یج یت رچھروں کے ئک روزٹوں سے لے دای

دددیا رش کیگصشن ریکھاؤو لک پارک نکش کسی یش جنی یکول نہیں جا ا اک ہآ گ اس کےگھر ےکی دور ہے۔ بے سپمکھی ںجھٹرکیوں کے گیل گیٹوں سےآسما نکی طرف ان دانے بپنٹیھٹراتے شعلوں کے دامن سے لی موئی مولی چنگا ریو ںکادہشت ناک قش ددرت یتھیں بگر پیڑرت اگ ناتحفوطید ار کے ہساۓ اُ نکی بدصیب وہتڈارجپ کور کو ہو تے ہہرۓےد رسہے تے۔جیج تل چھ یتو وکتی ٹن ھن یککڑے ہوا کے زور دارکھكّغ سے یک خوفرا کگرجع کے ساضھ ادھر اوت بح ر تے........ پھر دوار یی اڈاڑاکرکر نےگیں_

”ہا فوطیداروں کی ج بی راکھ ہوا چاہقی ہے“

نے سہا نے دن د یھ ہیں اس جو بی نے کے“

ری ا

نے پان ضز ہے مافی ری “انیڑے دک بھرے ون

دچے اس ج یی نےکب کک آخحھ اک دیواری

دردنا ک تی کی ےکن لاشو ں ابو نگ لیت _““

فوطید اد کے ایک سا نے ایت کھٹرکی کے طاق ن رق رآن یر

رکھا یع کے دانو ںکی 1سانی جلترنگک سے ا سک ”کن کگئی اود دہ نیک

ق‌َ انگ خواب د یکن لگا: چولھوں پرر ہے ہو چائۓے کے تچیلوں میس ہی سضسناہٹ ہول کہ سپائی دندناتے ہو ۓےگھروں می سکس گئے بیلیوں اورک چوں میس پانس کے ڈنڈڑوں اور بندوقی کے مقوں سے مار مارک انی میا نکی طرف پانگا گیا گور ںکھٹکیوں پر ا نکرقی رہیں۔ہلکتے ہوے بچوں نے دوقل مچایا کہآسمانالرذ نے لاسرا تک بازش سے میدران جنی کگی تھا ۔گڑ سے پالیٰ سے بھر گے تھ......... کیچ مس جوتوں کے سائق رر ہی ٹو پیا ںپچرپچر ہونھیں۔ پھ ری ےکپڑو ںکویچونے وا ےکی کےتاروں سے چننگار یاں اشن یں اوروروچھری جچیوں سے فضا کا یہ پٹ گا

دیاپنڈ تکی وٹ یکو کیٹا ہو لے کیو ںنکیں؟ ساپ

سوگ گی اکیا؟بول بے بڑھعو اکہاں سےآ نے تھے تیرے

داماد ؟کہاں چپ یا؟ ترائخوراوڈیئیل سانے او شحل ہے

بجی اوگرواد یکس کے“

ارتا شی سک ایک یدجمان' “نے بندوق اس کے بر ہن نے پررتان لی

اولیلہی دیادئی ۔ یک دم اکہہوااوراسں ک ےکر کےچھڑ ے شت کے وڑدے ےئگ لکرکچ یش اومع دع یھ رگئے نی سے ا سکی کوک لکئی .سو رکا لاڈ ڈیا کور رہاتھا۔

''الصلا خرن النوع زم زخینےبھتڑے )

ار 13 ےھ جس پلکا سا ددججسول ہوا۔ اس ےج سے پیربچیرٹی۔ نل پکنول ار پچکتة ہد ےق رآن بھیدکوچگوں سے چو میا آ ئن سے انی بی پیل سیا کے سنا نگمان می بھی نہ تھا مک سنروری خوشیوں سے تی بہوئی اس جو یکا اتجاماسقدررتاک ہوگا_ ”فوطید ارو کیج پیج لکر راک ہوگئی ٠‏ جلابے جم جہاں د لگ یئ لگیاہوگا کید تے ہوجاب راک تھے کے

جع تک مہ سا نکی طرف رت سے مت ہکھونے ایک ہولن ا کگھا ؤ1 جس میں سے ابی بجچلیاں لیت ہوا جوا کشا نکشاں خارج ہوک رمخموم فینا می سکہیںم ود ہاہے۔ ایک دوسرے پکرک ہوئی دلوار میں اد گی چوکٹوں سے لپھ فک دودتی ہیں ۔ج ری کےگرداگرد اق منڑی پچھا نو کی قمام مت رس بسراکرسیب:ناشپائی ءاجردٹ اور بادام کے ننڑ من ین دس ےک رخمناک آکھو ںکودودن یادیاجب ای نا تفوطیدارکی تی سرلکی بارا تآلتی۔ یی برکتی داتوں کک پرقیتتمو ںکی میں تھل اتی رہیں۔ورختو ںکی شہنیوں اوراگورکیںقیوں پرموقی کی مالامی انی رہیں اپ سےکت وک سفید بای منڑ ھھےکیجیھت پررہیارنگ فاوس بیگےہقتاتوں سےمناروں پر پاٹ کی گو ٹل گی اجب بارا تآگ یتو پنڑتانیوں کے میم مروں میں اہی ٠‏

14 انگ د٭ون ون “(ا) کے متا لے میں مسلمان بیوں کے تیور رجاگ ا تھے ایک * فی سفیرڈاپیشی دانے تة(یٹللا: ”نشرک روش ........ ہہ ہوا نڈکھچو ںکاکام ہے

تو یک لی پیا نے اق اوڑھت یک یگان و بد کرت ہو ےکہا:

آ توم ت لک ایک یتو ینڈ تالق شس ہے ایک یت نکی با ہے لا ڈکی لٹ کے والو کو تقد کہ بارات زند ودلوں کے ہاں ات گی ہے“

* ھرتمیکناری ٣(‏ )کی ددرت ھاپ پ تراتہ بد لن چاو انارک طرع تی ہوئی ایک تیرہ تا (۳) نے اپنے سر پھرن (۴) کے لے اور ئل پ ھکی یز پچ ککیکرفو ںکا کک رح جرگ یں اہارتے ہو اپکلیاں مڑکا ے ھک بھ رت : ئن تےرےناری وع“

ددگرش مار یک دیھن دانے پچ رکھدانے گے او رکف یکینسرکی نز یاں

رت ےگرت پ گی ۔اورجو چخیوں می نآن کگ یتوعتل ہرد جوا نکی

(ا):ونؤون: مشیر )دہ روات قگیت جوکشییری عورتیں خوٹشی پانصو شادی جیاہ کےموقعوں پرگانی ہیں۔-

)٥(‏ :جمیکناری: ری )ای کآلعتال۔-

(۴):دوگورت جو تیر تالوں پزناج گے-

( :مشیر :جتہ سط رایت ڈحیلالیاس جڑخنوں کے یچک تا ے۔

انگ 15

ھی سآ تی ۔بھرچٹ یٹ یٹاٹے چو ئے اوردعزدھڑاہٹ سے ساراعلا 3 رز اٹھاء باراتیوں کےکا نگججھناے۔اور جب وڈان وداع ہہوئ ی توکتی ہی سفیرڈاڑھیاں بنیگیّں-

ادرالیک پٹاہ ایا چو کہ بادودکی چپنگاریوں ‏ ےگمروں سےگھرمل جھے۔یستیوں میس راکا اڑن ےی لگیوں یس دن دماڑے سورع ڈو بۓے گے اور لے دار رو ںکی شف رگلت ماند گنی اورٹسی سقید ڈاڑھیاں جوان خو نکی چھینٹوں سے لال ہوگئیں-

اددرس دن جب یکا چچاددیواری سے بی ابینٹ اکھا ہک رجگ یگئی اس دن دد یپ رکدآسمان پر ند چھاگئی اود پیل کتتے پرنرےگھرو ںکولو ۓ ہوۓے بے نام فضا5ں می یکہیںم بر ءاودوذت رے دودانو نکی شماخوں پبرکر یا لک تے بھو کے موق رگد اچ اتک لاوارث لاو لک بسانر سے جاگ اھ اود برف سے ڈ گے ہو پہاڑو ںکی ڈھلوانوں می ںچینڑ کےبججنڈمنڈڑ لانے گے ۔اورجب ا نشی ںگمہ می رہیںتور نے ہڑ نے گے پچھر ود نبج یآ یا جب فو جیوں نے ھ بی می عارش یکپ ان مک کے رخوں میں کان دارتار کے نین لکھول کے باڑھ بانلڑگی ادد ارد یوارگی کے زتمو ںکو ڈپال ےڈعاکدیا۔

رخوں کے اس پارجرت زدہبھیٹری سکتتیلسی سفید ڈاڑھیا ںآ نی بی گہکئیں تی 1نکسیں ح بی کے ت مکرم سی کے یچ دبے پڑے ہے دفو ںک اشرفیو ںکوک یرک کٹا ےکی حرت مم رودی ہیں۔فا خر برکیکو

16 اگج کسی نے اطلا نیس دی :شای سی نے دی ہوا درف یپ کیا پڑتا۔ چو حے کیآنگک ھی ہدج یھی روٹ یکو تارک رت ے پر ای کا چیا مارانے سے صرف ناک سے تو ںکوھلمانے وا ینک اھ ہے۔ جس پی ےکی محص و بین ےلان ےکی سم سنائی دب

خی برای سے چچمدراکے لے دانے اسیرو ںکو ہیڑیوں مش باند ےکر رت ضا چت کے لئ پاکے وانےساویو ںکنکڑدیا سی گالیاں اوررردں ھ2 یج کے پانے وا نےمحصوسو ںکی ولدوز صدای ںآنےگیں۔ بیڑلو کا یت نال اوردددن کی نک نکر اق ماف نکیا پچھاتیاں چوسنا بجول جات ۔ ہررات قام تکی ط رع جبگز جائی تو چیارد و ارک کے ا ظرف ون میں گے ہو ےکپٹرو ںکڑگی کے کے سوگی سو ےکر پھاڑنے گت ۔

اور ج گی ے جوا قگجردکا ڈول اتا توٹوثی پےجس باہوں سے دو زی کا یھو ںکاسہارا لیے وانے با پک سی سفیدڈاڑ ہگ جال -لاالٰہ الاالہ بڑبڑاتے ہودت کے تھوں سے ڈو ےکا مکنا رو یڑک رلکھیٹرانے دانے ہزرگوں کے شانوں پرسار یکا تا تکا بج ھآلن پڑتا 802ئ7 دو ی ےکی مہندرییکئی پچنل کو پچڑ لے ہونوں سے چنڑت اوردھاڑی اد پچاڑیکھالی میاں وہ قح ص کرت ںک دحرتی را ےلگ اورعزش پرف رت اما ےا ے‌نلزئز التپ

وو009ہ

انگرن 17

پاسیےٴوم

”للیل‌ن“

پا یی ند نک سارک نشریاتجخ ہو یجس یاہوانے ریڑیاق ہروں کے ڈو لے غین کی ست بر دی ۔آڑھی را تکیقر بی فریکیی دا سی گمناممائٹیشن ےکو یماح ہوا تح ےگیت نار ا تھا یی سی اضجان ہنٹی تی کوک بر گن الا کے ساتے با لکھونے اپ نےکھوتۓ ہد با مکی یادش روا( )گار تھی ۔جی بکنک پھریی1آواز یٹس می ںآ ککی یش کے سار کال گفبامن دے یچ ہد ہی ےکی جکگی خوشب دج یتھی۔ ہراہرے میں مست جھانی یکن کے بول کبھی ڈھو لکی نےدرت ہوجائی توگت ا وور می اذائن سمائل انار یی کے چچوں ےگھیرے بباردی ے۔اورڈ تق یں دوروٹش سےآنے وانے چہازو ںیلم لھل لکرتی رشنو ںکو ےکی نرلوٹ کےآنے ال ُچجیرو ںکی راہ کھت کت لہروں برق جا دی سےتگووکرری ہیں

0 ایک راک شس کے بادرے می کک بی ںکہا ےک نکر شی افو یی رام ہو جات ہیں-

18 انار اکا ا سکی کیک لگئی۔صدردردازے پردھڑدھڑاہٹ ہوردیاگی- تی کن سا ےک نعل یا کہا سک ماس دقت سی جب دہ ند کے تار ے ل ہیں مون رکم بی ب یىی لند نکی اردج‌ش ریا تن باتھا: ”رج شرکے پا میں علاتے می ای ہف ضکوامعلوم بندوق برداروں لن ےگ کی ما رگ/ پلا حکردیا۔ پتایا جا اض پرپللیس کی ہونےکاالز ا ھا....... پا ایا لندن ہے

ہش تک کے وہ پلنگ سے اٹھا۔بلگی کی رمراجٹ سے چوک کک رخو دو سنبالا ۔کھٹرکی کا پردہسرکاکر باہردیکھا۔کھرے می نکی ےشیش سے چا ند نیچ نکرآ یتو بیدکی شاخوں کے سا ے فرش پرساخ پک رت ابرانے کے .۔سردہوا تل رہیپھی بی میس کے جھوتک ر ہے تھے اورکوگی بن کی ٹکو مل جم دحا رہا ھا خواجہ اہ قدو ں کا ما اکھڑکیٰ کے خی ےکچ وکیا یہ عہنوےوں ا

۹ زرعت!

ہت یت کم اک کئیں: کب راکپ چھا: ”کیہرا؟؟“ خواجر نے اپناکانپتا ہوا پا میم کے متہ پررکھا ادس رکگڑٹی می سکھا

انل 19 چپ چا پٹ و......... گیٹ پکوئی ہے“ یک نکرز یح تکادم فا ہوا: ”مولا یت ءکنا........ گھرییں جوان بی سے“ اورجب ود یر کے بحعدطوفا نٹ مگیا قد مو ںکا ہولناک چاپ ڈوب گئی........ دھکنو ںکی رق رجموار ہہوئ یتو میاں بیوگی نے المینا نکا سان لیا۔خواجہ احدقدول نے سجن سے بات کا سی پ چھااور پگ پر دراز ہو گے پچھود یر بعدکتوں نے بھوگنا بن دکیا ۔کئی راتو کی جنگار سے چو رخواجہ ش نے لیف ےگ رز یج ت یم اگ رد تھی ںکیو ںککگی ‏ ںو ف ماگ :ہا

سے سارک رات ایک خواب دچگھٹیگیں ۔ دہ گی ےپٹڑوں میں بد نکی جلگیاں چودی ”نے سے چاری ہیں۔

تح ہوئی تو زیت کم نے الہ ک ےکر ےکا دزداز وھ ولا فرش رے ٹیاف اٹاک رای جوا نکنواری بٹ یکا نم ڈحاغپ دیا-

وقت جیسے ایک ہی جرت مج لکئی قرفو ںکوبپھلان ککررکسی ان د کے انجانے کت پآ اکن مکیااودایآفت پڑ گآ راتکوا پت درواڑے رد کک نکر خوا جا قدویں سو کے ہے یا رر عکرز نے گے۔ ہوالو ںک۔ زن پیش تاد سےاپگاردں نے مگیافو نکوڈیکردیااسی دن خواجہ نے اپننے صددددواز ےکی ڈوربل ناکحارہ نادگی۔د ہد در ہے کان کے پرانے خحدتگارعجیب ال کا چچراچا جک یانے لگا ۔کنپٹیوں کے پال سفیر

20 307 ہونے گے ۔آککھموں سےیعلقوں میں سای پیل گی اور چوک رارمخول غا نک یندا اجک ضاب ہو ادردہ را تکوحقگڑگ اکر اپنے مو ںکوسلان ےکا کش شلکرد ہا سے ۔کی نک حجیب ای دستارحن جوان خیٹیوں کے وھ رے ڈن کفکرشائوں پر مگئی اورہتبول خا نکی اش یکود یم کت تیج نا نے کے بعد بای اشبار پڑت پڑت خواجہ نے منہ پر ہاتھ

پھبرا۔ان کے ہاتھ مم لکئی د نکی بڑھی ہوئی ڈا ھی کان ےکی طرح چپ گی۔دوبڈبڑانے گے:

یتو دسکھواس ناکی کے ین ے یل تھا کرد پاہےے

داریایہشی........ نے دو رپپ ری رو ںگا'“

مس از

پپردےایک یف کی ہتالوں اورکر فو کے بعدرمضان تا مکی دکا نگ تی گا بوں سے اٹا ا ٹف پبریی دکان یش متقبول خان داخل ہواتو رمضاان نے داے بات دک آٹف سے صائ نکا اگ استڑے سے اٹ ھک راغ پینفل کر کےمتقبول خاع سے" راکپ چھا:

”'گوں خان رمت؟ خ۶اجصاح بلیےوژں؟'“

یدک خا نکا چ ”تما ھکیو ںکددہ جا ضا تھھاک ہا بچھیٹری سکشزمت ال کا ہے جپنک رمضا نکی پے دار با تی سنے ٹیش ہیں ۔رمضان نے الع کےتور

ال 21 ویک ججسٹ ےکونے مس پڑی ہوگی ججائی سے پرانے ز مان ےکاس ریہ ھا اٹ کراسے ٹانڈ پراوند ھے مت لاد یااورمتبول خان تپائی پر یٹدگیا جوم برا یآ مد امگوارکگ رب یکیو ںکہاس کےنے سےقضے یں بادھاپگئی: توجناب قصہ یوں ہوا۔“ رمضمان نے دق مقبو لکی طرف سرکاتے ہہو ے قضہ جار رکھا: ا ا اسیا یگا بک کے بالوں میس کون ن ےگی۔ من سمواری جات ہے جھاری عطرفکتل ہڑا لچھی بج زوجگب ر اکر بولی سو بی ارا تکوڈ رانا چنا آیاء یٹس تبری(ا) بای ہو ں تم سیرصاحب کے ستان پھ بائٹ کےآ کہ1 تی ہلاگ جا گی تو جتاپ والا دا س بکا بج لاککرےمکیا کتچے ہیں ال سکوہ بارہ یچ ےکاعمل تھاکہ میں سد صاحب کے 1ستا نکی مرادوا یکھٹرکی سے تر باٹ کے جو دو رکعتانٹل نما زی تیت باند ھن لگا کہ یکا کیک بھ پر فان ہو ۔دھا کے سےآ سان سک ےکن میں دانہ دنا گن وا ےکہوت کیک مخت تھترامار کےاڑ گئ ۔ می ںیل تُوجلال تو ءصاح ما لگ ءآتی بلاکوٹا لگ کہ سے جگل سآ یائءکیا تا ہو ںآ مد آ دم زادجند نہ بندوفواز ۔ ایک رانگیرنے ڈرتے ہوۓ پتا یک گے ہیں۔رتم خدایا!جھ ادعرمعرکہ ہواتوضہ جانے کت بے تصورو ںکوگھمروں ے

(۱): پیلے چاول جونذ رو نیاز کےطور پر پاٹ ہیں ستتا ہریی-

22 انلگج ا لکرتگی بی سگولیوں سے ون ڈالا جا ۓےگاء سکتے سے بسا ۓگ رپ ویک رے خائمیں سے ری تگزری کہ اھرے آے ا رۓےیرے افراے ےلین ےئن قائو وا

نموم“ اچ یکھڑ پرہی جج ےکن نے“ گے .لو بی ! اب نی مصییبمت اب انہوں نے جو یہ چھاک کون تےکہاں ےک نے ےے؟ کہاں گے ؟؟كکیوں 1 ۓ ےہ تو ری سکھٹرکی کےشحیتے سے ین لگا ۔ ایک نامرادوردی ال مر ےگھ کے اتک پرآکراکڑگیا۔ لگا دیدار سے ایک ایک کےگن ش ا کے ............ کھ ا کشا دک رپھا نرک رآ ےگا مفت می ںون خرایہ ہوگا۔ می نب راخاندالی نائی۔ استراتوسو تے می بھی ساتھ رکتزا ہوں چنا مہ جب سے ھا یی پرزورژزورے پککران ماحیر رہ دک طر۔ ول یں مان پیک جو با ستیا نا اد سگیااوزمسقورات ےش مس٠‏ یتو جست مار کے وووارکرو لگادددارکرو لگ اک ای کآن میں :رخ ے سے استزا پارکہ کےگردنع لو ں بنا سااڑادو لگا( کتخم جج ےکو پتجھی ضہ کیا ہوا او رکیے ہوا؟ جا نکی سکو پردا۔ جا نت صدقہ ےگ تکا۔ د وت وج جکہ منھو سکا دا پا لی اکھی باتی تھاکروہاں سے لی فور ٹگیا۔

را پک نے چادرے جوا ںکگردن کے یئ ای ات الا کان "کھیاکرقیرت سے بی چھا: ۱

(۱): بنا سااڑانا:انیک بی ضرب میس کا کاا۔

نر 23

اش رز !رتو پت اک ند کون رت او یئ “کون؟“'_ رمضان نس راکرجواب دیا: : ”'میر صاحب!دکان ٹش سا ینکر ...یں خریب اتد ہوں ءکیوں یھ پچھنسار ہے ہیں۔۔داواروں ک جج کان ہو تے ہیں“ پچھروومتقبو لکی طرف خخا طب ہوا: ”نمتبول خان اخواجرصاحب س ےکہن اک ابکوں کے چبروں پرجگل 1 ای کا رن رک یک ڈائن کی سکیل ایا ہے ؛اکیلا یی بہویں ءا لے دی ےکا ال گی ۔ے“ اس نے چیادر جک دی: ”'ذراسا بھیٹرکو ین کرام سے پیل دکان یس جالا ڈا لک جا

تن دن کے لعد جو رمضا نآ یتو حجیب الشد ن گیٹ پر ہی بتادیا/ہ

(۱): ایک کا طٹریی 7 پریٹن جس می کسی بت قکوواصرے میس نےکر وا ناش جانی ہے۔ٹست کےکیخو ں کینکت کیاجاج ہے۔ج بی فو عکیلشضی میںملوٹ افرادکی شزاخت کے ل ےریت انیس تھ بج قیا کی بنا یلوگ و ںکوا ھکر ت جب خافو لک نکیا جاتا تھا نے ی کک دہاکی ح لک یک ڈائون کےتمورے ہی تھی ریو ںکی بوٹی بوٹ یکا یتی۔-

24 ان خواجر عاحب ابق ٹل کےا وا رشن دارکی عیادت کے لئے کے ہیں ءابزہ وہ سد ھھےس رون فکوارٹ گیا ۔تقبول خان نے سے ا سک یتو اش کرنے لگا۔ا کی ڈاڑھی حد سے بڑ کر بےت رحب ہو یا اور دہ چاہتا تا کہ رمضمان ا لک اصلا حکرے۔رمضمانع نے مقبو لکی ہتیت دج کر بی انل گاخیت بھانپ پپا۔ ای نےخوب گی بر کے حقہ پیااورکسب تکھو لکرمقبول کوسا نے یٹ کی اورکڑگاٹھاۓ تی رپ رپ می گی ۔مقیول نے اس خوف سےکیکوئی تر اشا ہوا ال اڑ کےہنعکھوں میں نے چلا چا ءہلیں مونر ہین۔ اور رمضمان لو نے جار ہاتھا: ”کیا متبول !تم خان ہوک با لگن کے ور ے7آکھیں موجد کے عو گج * تقبول نے ای ککەن کے ل4ی ںکھول د میں : ”ار رم اتم باتو ں کا مچھاڑ لگا د نے ہو۔ اگ ےکو ہو ۓے نیس دتت مگ رایک بات ما نم یڈ ےگ ءباتوں کے بھی ہو۔ ہو الیقد ش رکا ا نے رمضماانع نے باجھتا ات لی جن یقکوکیے ٹیک رایا: خان!ا تن بیس س گر یش رہ ے کے باوج جتہارے لیے سے چٹانوں سےگگ راک رک نے دالی للا رکی بارش تکا ا گیاکیا؟' بے پھچ ےکرتے ہد ےآبشار یکر کھ رکھم لئے وی چیک یکھٹگٹراہٹ

انم 25 ۔ دی بات میس لے مویشیو ںکو ہاگ والا چڑکاا۔ بیس بگیاکیا؟ بول یارا! می کا اش خون یش ہوتا ہےاورخو نکی رقآ یہت شتی ہے۔ مم اس پ ڑکا 3با( و ںجٛ کی جڑ یں سو پو ری ز شن یس چوست ہیں ۔ سو پور مں تھاموں کا ان کل ہو اکرتا تھا لم سےکنارے پ۔ و ہیں ہما رھ یگ رکیا سو ٹڑا ھی بہت کے چا متمفلس دی ہوتے تھے بڑ یح کےدن دیے ہم نا ئن اتا رتا زی مَتَن ات اٹ مر گن - ہہ گی انگ ہو گن ےون می اسیک اورجموئپڑائ نگیا۔ با ۓےکیا نو ںکیسی ضس یھی دہ کچے ہیں ناک ہآگے ہاتھ یچچ جات اس دسی صور ت مجھو۔ ایک ہی مکررے میس یکنا رکھا نا سوناءہعحمیادت :مہم دای سب پل ای کتوٹا سا موھاا تاجن سس وزاسی رش تی تی ۔" ایک حم کے لئے رمضان رکا۔اس ن ےکگڑ ھے سےکٹورىی میس پا ی جھمر کےمتبول خان کےگالوں کے پا لو ںکوا یو ںکی رکڑ سے نر کر ناش رو کیا: ”ادا غری امجگر ہے۔رفتۃ رف دنڈ یک سک رھیل شض کر دیق ہے۔ میرک ایک بہ نی کلم بج ےم ریس چھوٹی ۔ ا کاچ کل انارک رع وکتا تھا۔ کم اسے لاڈ سے لا لی سے تھے نو بی ںک یتیک دتہ ہوگیا۔ڈاکٹر ن ےکہاکہدھو میں ہکرداو ٹن سے با کے رکھو۔اعال نے پرالیٰ

() :درخ تک شا ج سکومئی می دبا دی زؤیں< کت یں ٹا لکر نی دا مین یا ےت

26 گے رضائی سروئی نک لکراس کے سے پررکودی۔ج ب شیک جن پردے کادورہ تا اوردہپا گی تو ےتا ہکوکی می راگاکونٹ د ہاہے ۔ بج سے درا کا شراب قد یکھاجات۔اال پیٹ سےتیلڑىی یس پکی ڈا لک تیل بالیس او رکگھڑی پک کی ہہوئیشیی سے اس کے سے پر ماش کرتں۔

دن اتا لک آکھسو یر ے سے نی برک رنیھی ۔افصوں نے چنائی ےگھا کا مک کا لک کہ پر رکھا تین دن سے لگا تار بر فگرددی تھی۔ اس پر اڑی سرد کہ پڑیوں ‏ سکودا جم جائے۔ بابا دن یلکن باز بت پر نے تک ربچعداکے سے بر فگراتے ۔ یجہت سے گے( )4 نکر ا نکو یھت .ایک دفھ درا تکو برف کے بوچچھ ےجس تک یکڑکی ججیک گئی۔ تج مراہٹ ہو ےگگیتو ابا فو رآحچعت پر چچڑ گے ا ربع دبع ربعدا چعد بر فگرانے مےے: می رات کو اندھا دیا (7) لک عاجت کے لے باہر لا دند کی رشن میں ججھت یح ج یمیس دس ےکر یج ٹکرک ڈائی نےحیت پر ٹیٹدکراپنے پت چھیلاۓ ہیں ۔ مج گر یبآ کی ادر یٹ سججھٹ سےاندرآ یا تین راتو ںکا ار نے میں بے حا لکرد یاتھا۔ یجن بر رر پاپ رج یھی ۔ پمایاں رک رج تمیں ۔ سن مس ہیس دعوک یل رج یت ےگ ھی را تکوہم سب سو گئے۔

(امککڑی کا جوجچیت پاٹ کےکا مآجاہے۔

(۲) دحند رن دالایاأً-

انگ 27

بایا تو کے می نکاضست لیر در یا سے پانی لیے گے ۔اجاں ملّجپٹ ای کے چجرے سے رضائی ہٹائی ۔ان کے من سے درد ناک چچیے لی ۔ میں جا گگیاتوکیاد با ہو ںکاعال نے لا یکوگود یس لیا ہے اوردہ اس کےژرو چر ےک بے تھاشاچچوم ری ہیں ۔ مو نکا حم اک ڑکیا تھا۔ بابانے دورہی رے شوروقو ا نکر پھانپ لاک مگھ یش افماد یی ہنرو ہیں چچھوڑکر برف پر بد ریعدردوڑت ےآ ے۔ چنا چا یکنست کو چو ے پردکھاکیا۔ سی پالی ے لا یکول دیامگیا۔ اود جن بن نکی ڈوک اش تد اجان نے دحاڑتۓ ہوے اپنے رکا پنناخشرد عکیا۔ یش نے اناں کے پا تس سک رپ ڑ لئے کو اور دہ بے وش ہوگکیں کل مکی جیب سے پچھوسپپیاں اور ای ککنل () لی ب گیا مییزے پا ہے

اس نے مب ل کاچ رہاگو تھے سے پو چک کھٹرک یچھعولی اور چادر جک ککر آین ےآنوی جے: ”نر“ مو لکی ہیں ڈیڈ با نےگیں_

”پچ کیا ؟' رمضمان تام بولا:

اخال ال صد سے سے نڑھال وککی رر نے ان کے چچرے پھر یو ںکی فی اتی بہا ری ء یدک شاخوں پر نے نے پاتس ران یتو بایا اسضیگر گے می سکسبت ڈا لکرپچھرسے لے رد ایا

( شی ری جس سے بے ایبھیل ری :یل ہیں۔

28 اش جال( ) دکیےکر چھے رون آیا۔ کے ہی ںو کٹخ کی موک ........‏ رمضان نے ای کک یآ وپ رب او رک ےلگا کبھ یھی انناں سر پرقصایڈا لکیگیموں کے یہاں چاو پچچھوڑ نے جا اورشا وگول برابر(؟ )گی انڈیش کت _ یھبوک کت یتو اہاں پیارسے تچ پا تیں۔ بت پیارکرقی تمیں مھ سے بھی ڈوئی اوخ سےکیا پال سےبھینئیں مارا۔ ایک دن سکول سےآیات وکیا دچتا ہو نک اتال خوت تھوک ری ہیں بایا پرانے اڈے کے پا قبرستان کے بوڈ حے چناار ج لے ون بج ڈاڑھی بڑہو ںکی ٹوہ مب رت ۔ڈاکٹر ن ےکہا رتپ دق جدگیا ہے بشمرنے جا شاب ا سکرایہ کے لےگرہ ٹس یی تھے اس ولن ایا ںکو بستر پرلن کر باہا نے چڑی اتاد دی اور چوٹھا سلگایا۔میرگ بڑعالَّ مو ٹگئی اور میس رقتۃ رف خماتدانی سب مین لگا۔ بابانے وب اک طر سی پک سک ساکر :چو نے پر پیک پچ فک استڑ ےکا دھاد بنانے سے یکر تی ء دنک ڈھگی او ٹل یک کے با مونڈ ن ےکی مز ببیت دگی۔الن نو یھکمیں () پر دھاگا ا کرخنڑٹوں غخٹرخوں دغیفا ےکہوتو ںکی رح گمردن پا ہ کہ رت ونئیش مارا جا سا تھا۔ ناکی الا استزا بھی رک رضمارو کو یو 7 )یل چال- (')::ا نکی دہ مقدار جو نی می پینے کے لے ڈالے ہیں۔ () رضاروں کے ووپال جوم وچھوں سیل جات ہیں۔-

الج 29 نان تا تھاکیگا بککا پا تاور یھ والو ںکینظرچسلق“_ کچ ہو ئۓ ضا نک یآنعکھوں یں چیب چجک پیا ہوگئی - إولا:

”خدامخفر تکرے باب اننس استاد تھ ہشن یکی رگڑ ے ڈاڑعی اس انداز سے مک تکہاسترا یرت وق ت گاب ککو پپیدب یں جلاک چرے پرکوگی سرک ری بل ری ہے۔اپق اشخو انی اللیوں ےتیل لگا کریرٹس یوں مال شک تےکسردد ےگا ب کک آکھنگ جاقی ںیکس یکاتو اوھ سےسرلڑ حم فک بابا کے سی پرآجا تا یھی چوک سےگا بک کے مہ پھ جکا تا تو صامنی کے ہچ ماگ میس چ اک راس پر اس عطور ےنکر بچھیرتے کہ جہ کےکاکوئ یکبھرھوح شر ہتا۔البت سو پکی ڈاڑھی تر ا ۓ میں مشکل ہو ھی“ رف

داوف ں گج“ رممان نے دم لےکرمتبول سے و چھا۔متبول نےنفی

میس ربلا یا۔دمضاانع نے یکو کے بڑحایا:

”یارخان کو نے گی کی مرتے دیکھا ہے .جس دن ایا نے پیش کے لے میں مون دیس اس دن بہت رودیا۔ الیتبابائےکلثژم کی وفات پریجچنڑی اک ر1گھو ںکوصدا کے کال ہج ہناد یا تھا۔اجاں کے گزرنے سےسساراگھ رق بودہوگیامی رانا تھا تو سرججگریش تادبصرےون مکی رہوگی ۔ تال بمائیءماماادد او کو نکو نآ نے چوتھ ہو چک تو رات

30 اق کسی بات یہ ماما اود با سکگرار ہوگی۔ با با رخ یس لاس داٹی ٹا کے اورشوار کےسات وق بھی تھوک و ےگگراس دانع پلاس دا نیت لک غاب ااں یں رکرک رو لںگؤھیں ۔خداجان کیاکی یدگ کہ ماما تے باپا سے مہ پردوزوردار چنا ماراکرا نکیکچکڑ یکر کےفرش پر لکئی۔ ے بابا برک اور ماما پر بہت خضہآ یا سو یرے سب لوک لے گے اگل دوز بایا معمو لکی طر حکسبت لے مج ڈال کے لے گئے۔ یس ان دفوں چوک مں صعد نا کی کے پاس دا لے نٹ پاتھ پیر یھت تھ۔ اس ز مانے بی سو لور میں عیامو ںکی بھی وکا نہیں ہو اکر تیتججیں جن یں صرف دنس ر1 سااور بڑے اضریامت کے لج1آتے۔

ایک دن یم یت پپن دک تیل می موت ہوئی تچ یتو باذارآلن کی کن میں بند ہوگیا۔ بالیس نے پیل لاشھی چار کیا جب ا جا جو ںکا طی شک نہ ہواتو زا ئ مم ومک ر ۓ_بجرڑ ب گت جان چا ےک خاطرباباعلّہ خواج ئن تکی طرف بھاگے۔ وہاں بساہندے پا لی کا ایک جھ ہرایس شں من سڑرے جافوروں کے ماس پر پےے دان ےکیٹ ےتیرتے رتچے ے ابا نے ایک مکان می پناو یجس میں صرف مستوراتچھیں ۔ چوک مکان سرراہ تھا لۓ مرد پل والوں سے ڈر سے بواک گے حھے۔ لیس سے اپلکاروں نے پپتھرا کر نے والوں کے خلاف جو ہر کے ایک طرف مورچہ بند یکی فلت میس جو بدنصیب رامگیروہاں ےگ رجا اسے دیو جکرز مرو الاپ یں ڑی لانۓ پر یو رکھرتے پھر ائھی طرح پیٹ کر مھوڑ

انرج 31 دینے۔ الیک نکر مسافر نے جب دک تو اس سےکپڑے بپچاڑ کے ارے تالاب می چیل دیا۔ بل رشن پرڈننڑے ما مار کے پا اد یا۔ ایک دوشیزہ نے میہبیبت ناک متفظرد یکر اپنےسرسے اوڑھف اجار کے باب الک طرف چیک دی:

”خداکے لئ اس جار ےکوسرعورت دی رآ و“_

بابانے اوڑعفی پیک کپ اوردوڑ پڑے۔ لوٹ والول تے یارکی- بابادوڈتے دوڑ ت ےگ گئ ۔ ظا لموں نے اک کان لیا او رکپڑ جارلَلا جبورکر نے گے باباز لن پرلوٹ وٹ ہونے گے ۔مستورات نے البتد دھادابو لک با اکوچچٹرادیا۔ یس یہ تا نکر بہت دفو ںکک ردیا یکس جم شش اس لاچار بد کک اسقدر بی تم یک ٠۹۹‏

اس درس نر کے بعد بااکی بی تجڑن گی ۔جوڑوں میں ورد ہہونے لگا۔عرنص یڑ گیا تو انگیوں مکلائیوں ادرخنوں کے جوڑ ابق نچ ے نے گے ۔کھٹ ہکا بٹڑک لن ا چک رر باہ رگ لآئی۔یش نے بہت مچھایا:”بابا......... تمہارے پا اٹہ گے ہیں......... نلیا ں گرزردی ہیں ہکھوں میں جفےپڑ گے ہیں ۔کسبت چوک رھ رم ںآ رام سےتیخون تی کااستراكکوئی قصائیکابفدانییس مکحرس بفضول :ایک ن مای ۔پمردچی ہواتس کاکذکا تھا۔ جو ن کا اس برا دن تھا۔ تو اتے کی دھوپ کی کے نی دا ل ےکا اتک میرک اس بڑھاریتھی۔ ایک دق چ فی لینٹی لی گیا با پاکی ین صور تآکھتوں میں پچ رئی۔انفاقی دنکھموکہای وت ایک ر یہ

32 اشرے

سان ۃکررکا کی ن ےکآ وازلگائی: ”رمۓ !ارمآزرا““_

یش نے دورسے دیکھابا اک پٹ جو چادد سے بای ۔ر یڈے پرا نکی مت ا نک یککڑی میس لی ۔ یں نے ماتھاپیے ہد ا چھا: کیا ہو ام رے بایاکو سپ ات 007 0,000 چینٹ رہ تھےکہاچاج کک کے ڈعی ہو ے۔ میں نے پردو اٹ اکر ھا ابا ام نہ غارکی طز عکھلانتھا جو کجغ مکی ہوک......... یھ یادآیاجب ٹل بہلی بارس بکرنے پُکلاتھا ااں نےکاگکڑی میں 'پڑھا ہوا سپندجلاکر بے زس سے بانے کے لئ دعونی دیھیا۔ چو ہو چکا تو پا نچو یں دن مامانے پچھپریی پرتا لاچ ھاکرمیرکلائ کی وریس میں بٹ کرس یلگ لے ے......... اسیا شع مولو یکو بلاکر ایا کیا کت ہیں ا سکواکلوتی بی کے سات مرا کا پڑجوایا۔ میہرے دن پر نے .کان ءدکانءجوروسب خحدانے خیب کے نز انے سے نے کہا ںو دہ تن کا زمانہکردن مر بوری پیر بی ھک پاوں سضناتے سے او رکہاں ے دکان۔ جان تب ری ان ۔جیامت کے لے دوکرسیاں :کریسیدوں پر رکانے کے لے او یر یچ ہونے والا چول کی ۔کہاں دو ساڑ حھے جچھےآن ےکا تہ جس میس اپب صورت دک وک گار ںکووضشت ہوثی تی ۔کہاں فرش با ہوا بڑا نجس می لگا کک بپپہردں چچچرہ ارتا جا مامانے اپتے صسرے

انج 33

بوچداتار کے دم میا۔الیتشادی میاہ کےعلادہ چوں کے منژن پر یا من تک ٹیا مونڈڑنے جات تے۔الطاف ہونے کے ین مین بعد ماما دا کو پیارے ہو گئے۔ پچ ران سال یع حمائی سدھار یی ابی سال شس پیدا ہوگی۔خدانے ضاب برابرکرد یا بھان تر خان....... ““ رمعضمان ىہ بوگل جیا ر ہا تھاکہعبیب ال نے درواز ےکھول کے رمضران ےکہا: ”رم اخواجبصاح بآ جج“ رمضا نکسیت یی سا مان ڈا لے گا: ”لیک ہے عجیب الام ا نکی یا تکا سا مان خکالی دومیں اس آیا اگ کرد مقبول خانع ےا طب ہوا: ہا تو بھائی !کہاں تھے ہم؟“ دہ یادکرن نک یکوش شکرنے لگا۔متبولی نے ٹو نے ہو ےسا ےکوجوڑ: متتمکہد ہے ھکیس پیداہوئ۔'“ جرمضمان نے لپک رکہا: نناں۔یارخان اک وچ وتو جوانی یس نے دیکھی ہینہیں۔ پیاس کے پیٹ یس ہوں ۔ کین سے ا بک ککا سفرماند گے پائؤں اگاروں یر ے گز رک کیا ہے ۔ ایک دفہمولویٹضل الد نے پے چھا: دا کے در بارش یناو تکیوں؟'ہونےا نکی ان یم پرسوا لکرکف ہے خقبول خان !

34 اش

ا نگنہگا رآگھوں نے صرف امیرو ںکوامی رہوتے دریکھا ہے ۔خواجرصاحب الب ا لگ بی نا لے ہیں ۔ کے نہیں ملا می یس ایمای ہوا ہے۔ لاب یتر وں کوسرا ٹھانےنیں دبتی........... معلوم یں مار یکن پچتیں لوگ ںکی بخلییں سا ےکپ کا ۔ہمرنے سے پچپلے لا وک الطاف امرکاساون یھنا ات ہوں ۔مردوں اورلگاوں کے لئ انگ الک ۔ چہاں ام راعراء بڑے افسراودا نکی بچ تی شجزادیاں بڑکی بڑیی موٹروں سے ات کےتھتے سے امت کے لآ کھیسں .میں دمیا کےکورکودہندروں سے الک ہو کے درگاہ شرلی کی دیلینز سے چٹ جائوں۔ ان !مہ بنا فرش امہ مآ راد ہو گ ےتوھ کیاخریوں ےخو ا ببھی پورے ہو گے؟“_ متبول خان نے ہعدددگی سے اس کےکا ند ھے پر بات رکھا اود اشبات میلک رپلایا۔ ”نہاں ہوناتودددی جاے۔“ ۶م رمضان نے نرہ مارک ےکابچہ یڑا ءگال سے رک کر نہنال صا فکا: ”جیرے نر٢‏ گی اورشگ زس اود پان ماہبا ااطاف اتھ کی شاد یی ریس خاندان می کرو ںگا۔میری طرف ےآ ریت ذگوت تو لک راو مع ابل وعیال قی ا متبول خا نس یگبری سو زا ڈو بگیا۔ یی کسی سدے ہے نن مکا کھرن ڑگ لگیاا ورول یں ز بروست نس بھی خان نے ای کلم سردآ چھم

ا 35 ی۔ادرا کیہ ایک لام خی زطوفا نکیاہروں کےشورج سکھوگئی--سخو نکا یک ایسالو فا نج سک اجلقیاہروں نے ہندوستا نکی ری کآز اد یک مار کے ایک خوتین باب جیلیاں دال با کے تتے پر رنگ پٹ کک را ےگیردا ینادیا۔ 'اے امو !اے ناصہو! !تھی ہما راچچھوڑ وو“ ا 07 ول کے از ار لد یا پآ کی پا کے دیبات سے لوگ یلا بک ط رح اڑ پڑے۔حاہگی عبدالتا ران نے سفیدررنگ کے خان ڈ ریس پیرکانے رن گکا واسکٹ پپہنا۔اصفرخمان نے الماریی سےق وی ٹھپ ٹا لکردادا کےصر پرسلیق سے رکودکی۔جاواس میس ات لوک ےک تھا یپچییکوتو زین پرگجرےءاور پرچشکفن برداروں کےاعروں سے شلن بل رد یی ۔اچاتک سپاہیوں نے کے سے لا ں کا راست روک کین ویمار سے لوگو ںکوگیر فان من ایا اور یناکیاحبیہ کے پدرامن اھت جیوں کے پت سینوں پر یندیوں کے دہانے کھول دئے اود پھاڑسما نے گے۔ پچاروں طرف پھام بھاگ اور اف راتفر 3 بے چے پھلا انی اورخرنعد دوک راو کبھو گے رہ گے ۔اورسکتتے اپتے عمز یو ںکی ڈہنلہ یا یٹس تودا تی جان سے پا دعوٹیٹے_ ایک کیرش حاگی عبداہتا رخا نکانظراپنے پاتے پد پڑیا۔اصفرز من پراوند ھھ مہ پا تتھا۔دادانے اسے چت لاد یتو اع کے مت ے ورو ناک

ٹیے لگی۔ اصفرکا پیٹ بی ٹکیا تا اود ا کی سی باہرہمکئ یں ۔حابق

36 ار غان نے پوس تک او گی دای و سک اپنے داسکٹ سے پیٹ کے چا ککو ڈ اتک دیا.........اولادی مت نے اسقد جو رد یگ ابق راچوعادآن انا جھول گے اورایک سپاہی کے پائوں پالکرک کم انے گے:

”صاحب اصاحب گی ام راپہتامرر پاے یک کے“

اس دبنگ نے ضف مرگ کے سے پرلات نمادیا۔ ای خان ہے ہوکرز لن پرڈ یہو گئ ۔درشت نے اپ غلیظ جوتۓ ےکبداجتا رغا نگ ھی سفیدڈاڑھحیکومسلنا شرد عکیا۔ اس کے سای ےکہا:

تا ہوں ابھی سے ہے ہناگی ستو رک“

اور بندوقی کے دہانے سےگولیو کی بو پچھاڑ ہوک ء ھی خا نکی بنڑی یس یں صی ھ62

کوگی نیس جا تا کہ اصفرخا نکی ط رح بڈےہپتتال پا ۔تخو لکتا ےک خد اک لوق ۔کوگی فرش یاجفات ٹس سےوئی ہوگاجس نے میرے لا لکو با یاخس وقت متبول خواجہ صاحب کے ہمراہ ہپتتال پچچااصفرکو پرٹینئھیٹر سے با ہلا یا جار ہاتھاشمیک ای وقت ا کے پایا کا ڈدلاءزارٹچرا بیس اتا اگیا ۔اصفرک یک میس ای کگولی جوست ہوگئی ہک رکا دھائگا ٹو ٹگیا یس کےگھمرمیس جوان مرو یی کو ما ںکطا تی پل لی ہد اور با بھا یگوہ موم تکمرا تا ہوکھلا ا لککادمیا کے اد یانوں سےیالیناد یتا-

متبول خمان پپھوٹ پیلوٹ کے زور پاتھا۔

و00

نے ا

لات نتےاں

اوردہ چتور کےتارکوگناتۓ () ہو ےمھیں مت تھے........ دوچ کی مم کے خباروں میں پھوتک بھرتے تے۔ وہ جوفلیل ۳ اھچ مر کے پرنددں پر یچیگتے تھے نیفدرس پاز بک مینک جوککارے چون ککراخت تے۔ پٹاختوں کے بعماکویں سےکھتاتے بہوےےکیانوں یں اپگلیاںٹھو نت تزاہ تراکبیک یکذ رتے ےتشر یرپچو ںکوپپر نکیا سجن سے مارتے تے_۔

....... جب ایک موم ایا آ یک دھرنی کے نے ےکونپاوں کے ہیا بارددی سرگیں پھو ےکی تو ہے بس ۓےگھروں اورچچکق تی بستیو ںکو مال نکر کے تا فلددرقافل:ہجثرت پررواتہ ہو گے اورج ب پک رات میں کا ہوا قافلہ جھا نل (۲) کےأس پار با تال پہچیاتودند کی رشن میں شانوں پر

( غانا:کھچنا کتا۔ ( ۴ داد یسعمیرکو ارت کے دوس ےٹخطوں سے ملا نے والیٹتل ۔ مہ با تہا ٹل کےنام ےگ جائی انی ہے۔ نل ۹۵۷ای سآ مدورفت کے لکول یکئی _

38 انگ ڈخل فک رہآئی ہوئیکیسری کسکڑیو ںکوستھا لکر انہوں نے آتری پازمڑکر چتدح۴ا ی آگموں سے اپنے تی کیوڑے ہد پرکھوں کےتج رکا تکودبکھنا چا ات چنال نے اچاج ککروٹ بد لک اگٹڑائی کی ادر ایک نۓ اف نک کیم تھے ای...:..... ای کآنع کے لے اع ا کا اف سے کوک اور ای یں ۔بیے دحرتی کا انت ایک ابے پرکارےکینئچے ہد ےتوس پھہ گیا جس کےیٹسل کے بازوکولقو ما رکیاے-

اوردہآنڑجی می سجھمگتے ہو ۓ پرندو ںکی رر 2 جھو رہ ے۔

پچ رجب کے پار ےکا رذائنع اڑشھپو راؤز جو سےمنا کیو انز گے تو سروں پر ودعول سے اف ہوگی اوڑحنیاں ستجانے اپنے رو ںکو آکڑے بنانے دا لے س رکا رگی افسروں :فلا یعفیوں سک ےکا رنروں اوراجنی تماشائیوں سے پا ءایڈیوں کے بی لکن دانے پلرٹوں کے چوڑے دال ن سنا ۓ ء اق چنوں سے پیھے ہو ۓےتیموں کے رخنو ںکوٹڈ ہا سک وا ی لاجہینیو ںکی بےٹی پآ کاش دو یا اورلیک ماں ایی جواپتی چچٹری اکلوتے تعکر کے سن میں خو نکا فوارہ ا گے وانے ہولناک وڑے میں ٹھوژ سکر و لگڑاتی ج سی نے مت پگوی ماددگا اور مال نے جب بدو کے لئے آ ئل پبارا وک یگاڑ یاں سک سے دعول اٹھاکر بن لگگیِں۔ اس مائی کے بالوں پبروقت نے میا ںببھ رک کے راکوڈال دی اوداسس کے سارے وجود رنہ بہار شی کر تے وا ی' الگ بر فک تی نم اتا بت ال ے ا لیے مک کہ بڑیوں سےگودا مچڑ نے وی ھی ا سے یھ گی اور پیر جال

انم 39

کے انس طرف داد می فی ماعحیں اٹ یتھیں جن کو یل چوانوں سے خق‌ق می سپ ل کیل ون ا یلت سوراخ اوڑھنیوں ےرم رہ گج _

ماسسسحبرتر لوک تاج کول اورجٹس روز مج رمضمان تما مکا اکلوتا لال الطاف احم مھ سے دو ےکی مر مسرحد پادکرنے کے لج رخصت ہوا اس دوزآسمان پر تیسرے پہہر کے بح خضیناک بادل چھاگئے اورآسان سےتغ تغ پان بر نے لگا۔دیرکک کین سناوردرفتو ںکو بی کے پا فکی طر حکمائے دالی ہوا کا بھنور جب شہ ھتوی خداخوف خدا ےرذ ن ےگل ءاور بزرگو ںکو جب اتد یش ہو اک شایدرآسمانوں یں طوغان وخ جیب یکسی بھ اتک بر باد یکا سامان چیار ہور پا ہےےتو ق ران جیدرلرزتے ہاتھوں یں ےک رکھٹکیوں سے چک ج